وزیر لوڈ شیڈنگ کے نام کھلا خط

محترم وزیرصاحب!

                بعد از سلام عرض ہے کہ خط کا آغاز عام طور پہ اس طرح سے کیا جاتا ہے کہ امید ہے کہ آپ بخریت ہوں گے مگر ہم یہ رسمی جملہ نہیں لکھتے کیونکہ آپ کی خیریت کی کچھ اطلا عات میڈیا کے ذریعے ملتی رہتی ہیں باقی محکمہ لوڈشیڈنگ والے بھی وقت بے وقت آپ کی یاد دلاتے رہتے ہیں جس سے یہ بھی پتا چلتا رہتا ہے کہ آپ کی وازارت قائم ہے اور ماشااللہ محکمہِ لوڈشیڈنگ بھی خوب ترقی کر رہا ہے ۔
                محترم وزیر صاحب آپ کی کارکردگی کی تعریفیں  تو پاکستان کا ہر شہری کرتا رہتا ہے اس لیے آپ کی شاندار کاکردگی پہ میں کوئی تبصرہ نہیں کرتا بس ایک عاجزانہ سی گزارش بلکہ التجا ہے کہ (گھبرائے مت لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا نہیں کہنے لگا )  خدا کے لیے ہم پہ تھوڑا سا رحم کریں لوڈشیڈنگ کے لیے شیڈول کا اعلان کر دیا کریں کیونکہ فی الحال اول تو شیڈول اعلان ہوتا ہی نہیں اور اگر کہیں غلطی سے شیڈول کا اعلان کر دیا جائے تو اس کی پابندی کرنا محکمہ لوڈشیڈنگ والے اپنی توعین سمجھتے ہیں ( ہاں پوش علاقوں میں شیڈول کی پابندی ہوتی ہو تو مجھے پتا نہیں ) جب جی چاہ بجلی دے دی اور جب جی چاہ بجلی بند کر دی۔
                محترم وزیر صاحب ایک چھوٹی سی تجویز ہے محکمہ لوڈشیڈنگ کو بس اتنی سی  ہداہت جاری کر دیں کہ وہ لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول جاری نہ کیا کریں   بلکہ  دن میں جو دو چار گھنٹے بجلی دینی ہے ان اوقات کا  اعلان کر دیا کریں اور اس پر عمل درآمد کو سختی سے یقینی بنایا جائے تاکہ جس وقت بجلی ہوتی ہے اس وقت تو تھوڑا سکون ملے ۔
                محترم وزیر صاحب یقین کریں اتنی ٹینشن لوڈشیڈنگ کے وقت نہیں ہوتی جتنی بجلی آرہی ہو تو ہوتی ہےکیونکہ جب بجلی گئی ہو تو پتا ہوتا ہے کہ اب فلاں وقت سے پہلے   تو ممکن ہی نہیں کہ بجلی آ ئے ( بعد کا کچھ کہہ نہیں سکتے ) ویسے بھی لوڈشیڈنگ اعلانیہ ہو یا غیر اعلانیہ  خواہ کتنے ہی انتظار کے بعد بجلی آئے جب بجلی آتی ہے تو اک پل کے لیے ہر انسان ہی خوش ہوجاتا ہے  لیکن جب بجلی ہو تو ہر وقت  یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ  پتانہیں کب محکمہ لوڈشیڈنگ کو اپنی کارکردگی دیکھانے کا خیال آجائے ۔
                   محترم وزیر صاحب آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے حق میں آپ کی دلیلں  سمجھ میں آتی ہیں مگر کیا شیڈول کے بغیر یا شیڈول کی پابندی کیے بغیر ( جب جی چاہ ) لوڈشیڈنگ بھی آپ کی کوئی مجبوری ہے۔
فقظ
 پاکستان کا اک بے بس شہری
محمد یاسرعلی

کاش میں

کاش میں آزاد فضاوں کا پنچھی ہوتا
جس دیس میں جی چاہتا
میں بسیرا کرتا
کاش میں آوارہ بادل ہوتا
جب بھی دل اداس ہوتا
میں کھل کے برس جاتا
کاش میں تازہ ہوا کا جھونکا ہوتا
اپنے یار کو ہر دم
تازگی کا احساس دلاتا
جب جی چاہتا
اس کے لب و رخسار کو چوم لیتا
کاش میں مکمل پاگل ہوتا
دل کے ساتھ ساتھ دماغ بھی
ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتا
جب جی چاہتا
یار کے در کا طواف کرتا
جب جی چاہتا
ان کے قدموں میں سجدہ کرتا
شرک کا مجھ پہ فتویٰ نہ لگتا
میرا سوہنا رب بھی
مجھ سے ناراض نہ ہوتا
کاش میں عشق میں مسلماں نہ ہوتا
بنا دیکھے
کسی ایک پہ ایماں نہ لایا ہوتا
میں بھی حسن کا پجاری ہوتا
جب کسی ایک کی پوجا سے
میرا دل اکتا جاتا
اپنے من کے مندر میں
کسی نئی دیوی کی مورت سجا لیتا
کاش میں اتنا بے بس نہ ہوتا
میرا دل میرے اختیار میں ہوتا
جب جی چاہتا
دنیا والوں کی طرح
میں یار بدل لیتا
از ”محمد یاسرعلی“
31 دسمبر 2012

زندگی کے مشورے میرے نام

جب زہر پیالہ میں پینے لگا
تو زندگی نے آکے مجھ سے کہا
پہلے میری بات سن لو نا
پھر چاہے زہرپیالہ پی لینا
موت کو گلے لگا لینا
تجھے دنیا سےیہ گلہ ہے کہ
کسی نے تجھ کو اپنا سمجھا نہیں
دنیا سے گلہ بعد میں کرنا
تو تو خود بھی آج تک
اپنا بن سکا نہیں
ایک بار ذرا خود کو بدل کے دیکھ
کسی اور سے امید نہ رکھ
پہلے خود تو اپنا بن کے دیکھ
آخری بار تلخ یادوں کو بھلا کر
نئے سرے سے زندگی کا آغاز کر
اب تک انسانوں کو حال دل سنایا ہے
اک بار خدا سے بھی لو لگا کے دیکھ
آج تک سہارے تلاش کرتا رہا ہے
کسی اور کا سہارا بن کے دیکھ
اپنی خاطر مرنے سے پہلے
کسی اور کی خاطر جی کے دیکھ
پھر تجھے مجھ سے
پیار نہ ہوا تو کہنا
پھر جو مرضی کرنا نہیں روکوں گی
اپنی قید سے تجھے آزاد کر دوں گی
پھر چاہے زہر پیالہ پی لینا
موت کو گلے لگا لینا
===!===
شاعر " محمد یاسر علی "
===!===
ستمبر 28 , 2012 بروز جمعہ صبح 7 بجے
===!===

پہلے ہی کہا تھا

میری قبر پہ آکے رونے والے
پہلے ہی نہیں کہا تھا میں نے
اب کے دل توڑا تو
میں بھی ٹوٹ کےبکھر جاوں گا
مٹی میں مل جاوں گا
شاعر " محمد یاسرعلی "

میرے دل اور دماغ کی آپس میں سرد جنگ

آج کل میں بہت ہی عجیب سی کیفیت سے گزر رہا ہوں، میرے دل و دماغ ہر وقت آپس میں الجھے رہتے ہیں، پتا نہیں دل اور دماغ کی اس سرد جنگ میں میرا کیا بنے گا.
دل کہتا ہے مجھے کسی سے بہت محبت ہے، دماغ کہتا ہے محبت کچھ بھی نہیں ہوتی.
دل کہتا ہے کہ اب میری زندگی صرف اس کے نام ہے ، دماغ کہتاہے پاگل نہ بنو  پتا نہیں تم نے اس کے بارے میں کیا کیا سوچا ہے پر کیا پتا وہ کیسی ہو.
دل کہتاہے وہ جیسی بھی ہو ، بہت اچھی ہے، سچی ہے، سادہ سی، معصوم سی.
دماغ کہتاہے وہ تم سے پیار نہیں کرتی، چھوڑ دو اس کا پیچھا، دل کہتاہے وہ کرے یا نہ کرے، میں تو کرتا ہوں.
دماغ کہتا ہے اگر وہ کسی اور کی ہوگئی تو کیسے جئیے گا،دل کہتا ہے میں اس کی خوشی میں خوش ہوں .
دماغ کہتا ہے اس کے بنا جی کے دیکھاو جیو گے بھی تو موت سے بدتر زندگی ، دل کہتا ہے جینے نہ ہوا تو موت کو گلے لگانا کون سا مشکل کام ہے.
دماغ کہتا ہے تو پاگل ہے، دل کہتاہے کہ ہاں میں پاگل ہوں اور جب یہاں آکے میرے دل و دماغ دونوں کسی ایک نقطہ پہ متفق ہوتے ہیں تو میں بھی کہتا ہوں چلو شکر کسی جگہ تو کسی بات پہ دل و دماغ میں اتفاق تو ہوا اب جب دونوں اس بات پہ متفق ہیں تو میں بھی مان لیتا ہوں میں پاگل ہوں۔
تحریر " محمدیاسرعلی"

ایسا ہو سکتا نہیں

زندگی
مختلف رتوں کا میلہ ہے
اس میں سکھ کی بہاریں ہیں
تودکھوں کی خزائیں بھی ہیں
جذبوں کی گرمیاں ہیں
توبے اعتنابی کی سردیاں بھی ہیں
آنسووں کی برساتیں ہیں
تودلی مسکراہٹوں کی
قحط سالیاں بھی ہیں
زندگی چلتی رہتی ہے
رتیں بدلتی رہتی ہیں
کوئی رت کبھی مستقل ٹھہرتی نہیں
کوئی خزاں کبھی بھی
بہار کو آنے سے روک سکتی نہیں
پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے یاسر
آج تیری زندگی میں دکھ ہے
تو کل تیری زندگی میں
کوئی سکھ نہیں
از " محمد یاسرعلی"

پاکستانی عوام اور انقلاب

یہ کون ہےجو بے وقت
باربار
بڑی شدت کے ساتھ
میرے در پہ
دستک دے رہا ہے
کیا اسے پتا نہیں یاسر
کہ ابھی آدھی صدی پہلے ہی تو
بڑا تھک ہار کے
سویا ہوں میں
شاعر "محمد یاسرعلی"

اگلا صفحہ >>>

یاسرنامہ - YaSiRNaMa

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.