اداس لڑکی اور امیرزادہ

کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک غریب سی لڑکی تھی وہ ہر وقت بہت اداس رہتی تھی اس کی کوئی سہیلی نہیں تھی ہر وقت اپنے ہی خوابوں کی دنیا میں کھوئی رہتی تھی ، ہر وقت اداس، اس کے گھر والے بھی اس سے پیار نہیں کرتے تھے۔

ایک امیر آدمی کا محل بھی وہیں پاس تھا اور اس کا ایک بیٹا بھی تھا تو پھر ہوا کچھ یوں کہ امیرآدمی کا بیٹا اس اداس لڑکی کو دیکھتا تو بہت حیران ہوتا ایک دن اس نےلڑکی سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سے پوچھا وہ ہر وقت کیوں اداس رہتی ہے تو اداس لڑکی بہت حیران ہوئی کہ زندگی میں پہلی بارے کسی نے اس سے اس کے بارے پوچھا تو اس نے جو بھی بات تھی سب سچ بتا دی کیونکہ وہ اداس لڑکی اپنے بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں چھپایا کرتی تھی۔

وقت گزرتا گیا اداس لڑکی کو امیرزادے سے محبت ہوگئی اور اس نے اس کو بول بھی دیا ،اب امیرزادے کو چاہیے تھا کہ وہ اس کو بتاتا کہ نہیں وہ اس کے سپنے نہ دیکھے وہ غریب اداس لڑکی ہے اور وہ ایک امیر باپ کا بیٹا ہے پر وہ چھپ رہا۔

امیرزادے نے اس سے یہ توکبھی بھی نہیں کہا کہ غریب اداس لڑکی سے وہ پیار کرتا ہے لیکن جس طرح وہ اس اداس لڑکی سے باتیں کرتا ، چھوٹی سے چھوٹی بات اس سے شئیر کرتا اداس لڑکی سمجھی کہ اس کو اس محبت ہے لیکن وہ کہتا نہیں وقت گزرتا گیا وہ اداس لڑکی اب اس کے پیار میں ساری دنیا بھول چکی تھی کہ ایک دن ایک امیرزادی کی انٹری ہوئی ، اس نے اداس لڑکی سے کہا کہ وہ امیرزادے سے پیار کرتی ہے اور وہ بھی اس سے پیار کرتا ہے اس لیے اداس لڑکی بیچ میں نہ آئے جب اداس لڑکی نے امیرزادے سے اس امیرزادی کے بارے پوچھا کہ کیا وہ اس امیرزادی سے پیار کرتا ہے تو امیرزادے نے اس سے کہا کہ وہ امیرزادی سے نفرت کرتا ہے لیکن امیرزادے کی باتوں سے اداس لڑکی کو لگا کہ اب کے وہ اداش لڑکی سے جھوٹ بول رہا ہے لیکن اس نے اس بات کا اظہار امیرزادے سے نہیں کیا ۔

پھرہوا کہ

اچانک سے امیرزادے نے اداس لڑکی کو اگنور کرنا شروع کر دیا جس سے اداس لڑکی نے سمجھا اور سچ سمجھا کہ امیرزادہ اب اس سے جان چھوڑنا چاہتا ہےلیکن اس کی انا اس کو اس سے روک رہی ہے کہ اس کےجانے کے بعد اداس لڑکی اس سے شکائیت کرے گی اس لیے امیرزادہ جو رات گئے تک اس سے بات کرتا تھا اچانک خود کو اتنا مضروف بتانے لگا کہ اب دن میں دو منٹ بھی اس سے بات نہ کرتا اگر بات کرتا بھی تو یہی کہ فلاں امیرزادی اس سے پیار کرتی ہے ، فلاںامیرزادی سے وہ پیار کرتا ہے اور ایسے ایسے جھوٹ بولنے لگا جو صاف پکڑئے جاتے تھے یا خود بعد میں ایسی بات بتاتا کہ اداس لڑکی سمجھ جاتی تھی کہ رات کو اس نے جھوٹ بولا ہے اس لیے اداس لڑکی نے ایک دن اس سے پوچھا کہ ہمارے تعلق کا انجام کیا ہونا ہے تو اس نے پتا ہے کیا جواب دیا، اس نے کہا کچھ بھی نہیں ہم کبھی ایک ہو ہی نہیں سکتے ۔ اداس لڑکی یہ سن کے ٹوٹ گئی کیونکہ اس سے پہلے امیرزادہ اس سے کہتا تھا کہ اگر اس کے والد صاحب راضی ہوئے تو وہ اس سے شادی کرئے گا لیکن اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیر اداس لڑکی نے سوچا کہ اب اس بے مقصد تعلق کو ختم کر دینا چاہیے ۔ اداس لڑکی جانتی تھی وہ امیرزادے سے بات کیے بغیر ایک پل نہیں رہ پائے گئی اورامیرزادہ تو بار بار اس کی گلی سے گزرے گا ہی کیونکہ اس کے محل کا راستہ تو یہی تھا اس لیے اداس لڑکی نے ایک دن امیرزادے سے وعدہ لیا کہ وہ اب اس کے ساتھ اس بے مقصد تعلق کو مزید قائم نہیں رکھ پائے گی اسے خود پہ اختیار نہیں لہذا وہ اس سے وعدہ کرے کہ وہ اس سے کبھی بات نہیں کرے گا چاہے اداس لڑکی تڑپ تڑپ کے مر ہی کیوں نہ جائے ۔ امیرزادہ تو چاہتا ہی یہی تھا اس نے وعدہ کیا اور اداس لڑکی کو بھول گیا اب تو اس کے اردگرد اتنی امیرزادیاں ہوتی ہیں کہ اداس لڑکی شاید ہی زندگی میں دوبار اس کو کبھی یاد بھی آئے لیکن اداس لڑکی کی زندگی میں تو اب کوئی نہیں بلکل تنہاء ہے دن میں سو بار جیتی ہے سو بار مرتی ہے مگر ہر پل امیرزادے کی خوشیوں کی دعا کرتی رہتی ہے۔

تحریر محمد یاسر علی
4 نومبر 2012 صبح 9:30 پہ لکھی گئی

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اداس لڑکی اور امیرزادہ پہ 3 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. جی یاسر۔۔
    کہانی تو واقعی بہت اچھی ہے۔۔
    لیکن انجام روائتی ہے۔۔
    لڑکی نے ہمت نہیں کی ۔ بس دعائیں ہی کرتی رہ گئی۔۔۔
    اچھی تحریر پیش کرنے پر شکریہ
    امید ہے آئندہ بھی ایسی ہی بلکہ اس سے بھی اچھی تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔۔

    ڈاکٹرنور
    www.homeopathypakistan.blogspot.com
    www.tipsnsecrets.com
    www.wordsspeaktoo.com

    ReplyDelete
  2. بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ ڈاکٹر بھائی
    ان شاء اللہ کوشش کریں گے کچھ لکھنے ہوا
    سدا خوش رہیں
    آمین

    ReplyDelete
  3. بھائی جان ۔ ۔

    کہاں ہو آپ ؟ ؟ ؟ ؟

    بہت یاد آتے ہو ۔ ۔ ۔

    ReplyDelete

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.