اب کے عید کیسی

کہتے ہیں کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ، جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے مگریہ کیسا جسم ہے کہ اس کے ٹکڑے کیے جا رہے ہیں‌ مگر باقی جسم کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی ۔

پہلے میں سمجھتا تھا کہ شاید صوبائیت ہمارے اندر سے پاکستانیت کو ختم کر رہی ہے اور فرقہ پرستی ہم کو مذہب سے دور کر رہی ہے مگر شاید میں غلط تھا صوبائیت اور فرقہ پرستی صرف ہمارے اندر سے پاکستانیت اور مسلمانیت کو ہی ختم نہیں کر رہی بلکہ شاید ہم میں جو تھوڑی بہت انسانیت باقی تھی اس کو بھی ختم کر رہی ہے ۔

میرے دوستو خدا کے لیے اب کے عید پہ مجھے عید مبارک نہ کہنا ذرا ملک کے حالات دیکھو کیسے میرے ملک کو جلایا جا رہا ہے ۔ایسے میں کیسی عید کچھ لوگوں کو سیلاب نے بے گھر کر دیا ہے وہ تو چلو خدا کی طرف سے آئی آزمائش ہے مگر میرے کراچی اور بلوچستان میں مظلوم انسانیت کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو دیکھنے کے بعد میرا دل نہیں مانتا ہے کہ میں عید کی تیاری کروں جب میں بازار میں لوگوں کو شاپنگ کرتے دیکھتا ہوں‌ تو میرے سامنے ان مظلوم بچوں کی تصاویر آجاتی ہیں جن کے سروں سے باپ کی شفقت چھین لی گئی ہے، اس سہاگن کا دکھ یاد آجاتا جس کے ہاتھوں‌کی مہندی ابھی پھیکی بھی نہیں پڑی ، مجھے وہ معصوم یاد آجاتا ہے جس کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی یتیم بنا دیا گیا ،وہ ماں‌ باپ جن کے بوڑھاپے کا سہارا ظالموں نے چھین لیا، ان بہنوں کی تصاویر میرے دماغ میں گھومنے لگتی ہیں جن کے دل میں بھائیوں کے لیے نجانے کیا کیا ارمان تھے ۔ ان کا کیا قصور تھا کیا اس ملک میں جنم لینا ان کا قصور تھا یا پھر اپنے پیٹ کی دوزخ اور بچوں کی خواہشات کو پورا کرنے لے لیے گھر سے نکلنا ؟

لندن جہاں کچھ دن پہلے ہنگامے شروع ہوئے تھے توہم لوگو نے بھی لندن کا موازنہ کراچی سے کرنا شروع کر دیا تھا اور کم سے کم ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی تیزی سے وہ اس پہ قابو بھی پا لیں گئے مگر دنیا نے دیکھا کے انہوں نے مل کے پالیسی بنائٰی اور حالات پہ ایک دم قابو پا لیا سچی بات ہے کے وہ ملک کے ساتھ مخلص سیاست دان تھے ہمارے سیاست دانوں کی طرح بے غیرت اور انسانیت سے عاری نہیں تھے ہماروں کو تو یہ فکر نہیں کہ ملک بچے گا کہ نہیں بس ان کی حکومت 5 سال تک رہنی چاہیئے، ویسے بھی ان سب کی پالیسی لوٹو اور پھوٹو ہے جو اصل پالیسی ہے باقی سب تو عوام کو بیوقوف بنانے کے بہانے ہیں آج بھی حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ ایم کیو ایم کو حکومت میں لانا اور ایم کیو ایم کا مسئلہ کسی بہانے سے حکومت میں شامل ہونا ہے ۔غریبوں کی فکر کس کو ہے کوئی مرتا ہے تو مرے ان کو غریبوں سے کیا لینا دینا۔

وہ پولیس والے کہاں ہیں جو لندن میں امن قائم کرنے کے دعوے کر رہے تھے ان سے گزارش ہے لندن پولیس نے تو ان کی مدد کے بغیر ہی امن قائم کر لیا ہے اگر ہو سکے تو کراچی پولیس اور رینجرز کی ہی مدد کر دو ۔اب تو بس خدا سے ہی دعا کی جاسکتی ہے جس نے اب تک پاکستان کو بچا رکھا ہے کہ وہ میرے پیارے وطن سے بد امنی کو ختم کرے اور مفاد پرستوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچائے اور ہم عوام کو اتنی ہمت دے کہ میرے ملک میں خون کی ہولی کھیلنے والوں اور کھیلانے والوں کو سرِ عام سنگ سار کر سکیں ۔ آمین

تحریر " محمد یاسر علی "

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.