میں ہی تو ہوں


جنم دن سے ہی بد قسمتی ہے جس کی تنہا ساتھی 
میں ہی تو ہوں دنیا کی وہ تنہا ترین ہستی 
نہ کوئی آنکھ میرے دردوغم میں آشکبار ہوئی 
نہ کسی کے لبوں پہ میرے لیے مسکراہٹ سجی 

main hi toh hoon by Muhammmad Yasir Ali
میں ہی تو ہوں
☆★☆

کوئی دوست نہیں میرا اس خود غرض دنیا میں ابھی 
بچپن سےجوانی تک اپنے پر سُو دیکھی صرف تنہائی  
کسی بھٹکتی خوشی نے بھی میرے در پہ دستک نہ دی 
اپنے ہی آنسووں کی قید میں کٹی ہے میری زندگی 

☆★☆
کیوں چھپاوں کہ ایسا وقت آیا تھا مجھ پہ بھی کبھی 
جب زندگی لگنے لگی تھی بہت ہی بے کیف سی 
میں کسی کو چاہوں ، مجھے بھی ٹوٹ کے چاہے کوئی 
چاہت کی خواہش میں میری روح بھی تھی مچلنے لگی 

☆★☆

کچی عمر میں جو آتشِ عشق دل میں تھی بھڑکی 
تفکراتِ زمانہ میں پتا بھی نہ چلا کب وہ بجھ گی 
یقین نہیں آتا جذبات کو سرد ہونا تھا ایسے کبھی
 کہ کرید نے سے بھی نہیں ملتی کوئی چنگاری باقی

☆★☆

پہلے امنگِ جوانی پھر تخیل کی رنگین دھنک بکھری
جب حسیں چہروں کے پیچھے چھپی میں نے سچائی دیکھی 
دنیا کی تلخ حقیقوں میں اک تلخ حقیقت ہےیہ بھی 
 سچی محبت کبھی مادہ پرست دل میں پیدا نہیں ہوتی 

☆★☆

یہ دیکھ کے بہت صدمہ ہوا کہ انسانیت ہے کھوکھلی 
ہر جاہ ہے خواہشات کی غلامی، خود غرضی کی حکمرانی 
پر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے یہ سچ یاسر جی 
میرے دل ودماغ بھی ہیں اپنی خواہشات کے پچاری 

از "محمدیاسرعلی"

2001 میں یہ نظم میں نے ایملی برونٹے کی نطم I am Only Benig سے متاثر ہو کر لکھی تهی مجھے اس نظم کا ایک ایک لفظ اپنی زندگی کا حصہ معلوم ہوتا ہے بلکہ اگر میں یوں کہاوں کے یہ نظم میری زندگی کی مکمل کہانی ہے تو غلط نہ ہوگا.

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.