تجدیدِ عہد اب کے برس

اب کے برس 
میں نئی زندگی کی
یوں شروعات کروں گا 
جو کچھ ہو چکا 
جو کچھ میں کھو چکا 
اس کی نہ کوئی شکائت کروں گا
سب تلخ یادیں 
میں بھول جاوں گا 
ہر حال میں بس مسکراوں گا 
نا امیدی کو چھوڑ کے 
امید کا دامن تھاموں گا 
جنہوں نے مجھ سے رشتہ توڑا 
جنہوں نے میرا دل توڑا 
ساتھ نبھانے کا وعدہ کر کے 
جنہوں نے مجھ کو تنہاء چھوڑا 
میں بھی ان بے قدروں کی 
پرواہ کرنا چھوڑ دوں گا
ان سے ہر ناطہ توڑ لوں گا 
جو مجھے اپنا سمجھتے ہیں 
ان کو اپنا بنا لوں گا 
اب تک جیتا آیا تھا میں 
صرف اپنے لیے 
اب کے دوسروں کے لیے 
جینے کی کوشش کروں گا 
اب کے برس
میں وقت کی بھی قدر کروں گا 
خلق خدا کے ساتھ ساتھ 
اپنے سوہنے رب کو بھی 
راضی کرنے کی کوشش کروں گا 
صرف دنیا کے لیے ہی نہیں 
آخرت کے لیے بھی 
کچھ مال و دولت جمع کروں گا 

از ”محمد یاسر علی“
1 جنوری 2013

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.