بہت دل کرتا ہے

محمد یاسر علی
بہت دل کرتا ہے از محمد یاسر عل
اجنبی شہر کے
اجنبی راستوں پہ
اجنبی لوگوں کے درمیاں
اجنبی منزلوں کی جانب
تنہاء چلتے چلتے
جب میں تهک جاتا ہوں
تو بہت دل کرتا ہے
کسی اپنے کی آغوش میں
سر رکه کے سونے کا
کسی اپنے کے 
گلے لگ کے رونے کا

بہت دل کرتا ہے
کسی کو اپنا
ہمسفر بنا لینے کا
کسی اپنے کا ہاته تهام کے
عمر بهر ساته چلنے کا

مگر

دل تو ناداں ہے
اس کو دنیا کی کیا خبر
اس کو کیا پتا
بنا بنک بیلنس
بنا بنگلہ گاڑی
کوئی اپنا بهی
اپنا نہیں
عمر بهر ساته چلنا
بہت دور کی بات ہے یاسر
تجه جیسے
خالی ہاته انساں کے ساته
کوئی دو قدم بهی
ساته چلتا نہیں

★☆★

شاعر : محمد یاسر علی
06/10/2015
10:50am
☆★☆

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.