اس سے کہنا

جو ہو کسی دن
اس بیوفا سے ملاقات
اس سے پوچھنا
کیسے ہیں اب اس کے حالات
کیسے گزرتے ہیں اب
اس کے دن رات
اب کون اسے اپنی جان کہتا ہے
اب کون اسےاپنے لہوسے خط لکھتا ہے
وہ مجھ سے کتنا اچھا ہے
اپنی چاہت میں کتنا سچا ہے
اس سے پوچھنا ضرور
چاہے وہ لاکھ کرے انکار
کہ کوئی تو ہے ضرور
جس نے بچپن کا پیار بھلایا ہے اسے
اس کا بچپن یاد دلانا اسے
جب وہ ہمیشہ یہ کرتی تھی
اپنے گڈے کی
میری گڑیا سے شادی کرتی تھی
اور بعد میں میر ی گڑیا توڑ دیتی تھی
میں آنسو بہتا تو وہ مسکراتی تھی
پھر خوب خوش ہو کےخود ہی
میرے آنسو پونچھا کرتی تھی
اور مجھے اپنی گڑیا دیدیا کرتی تھی
اس سے پھر اپنے گڈے کی شادی کرکے
وہ گڑیا مجھ سے لے لیا کرتی تھی
یہ کہہ کےخاموش نہ ہو جانا
اس سے کہنا
ہاں اس سے یہ ضرور کہنا
میرا دل
کوئی بے جان گڑیا تو نہ تھا
اگر لے ہی لیا تھا
تو اسے یوں توڑنا تو نہ تھا
اور توڑ ہی دیا تھا
تو پھر بچپن کی طرح
میری چیزوں کو توڑ کے
مجھے روتا دیکھ کے
کچھ دیر خوش ہو لیتے
پھر مجھے منا لیتے
چاہے کچھ پل کے لیے ہی سہی
مجھے اپنا دل دے دیتے
کم از کم
یوں مجھ سے منہ تو نہ موڑتے

از "محمد یاسر علی "

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.