کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
 ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی 
بیچ میں صدیوں کی ہیں مسافتیں ہوتیں 
اور کبھی ہزاروں میل دور ہوتے ہوئے بھی
سب دوریاں ہیں مٹ جاتیں 

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے 
صدیوں کی جان پہچان سے بھی نہیں 
ہر روز کی ملاقات سے بھی نہیں 
انجانا پن ، بیگانہ پن جاتا 
اور کبھی بنا دیکھے ، بنا جانے 
کوئی اپنا ہے بن جاتا 

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے 
زندگی کے مشکل دور میں 
خون کے رشتے بھی ساتھ نہیں دیتے ہیں 
اور کبھی منہ بولے رشتہ پہ بھی 
لوگ جان وار دیتے ہیں 

از " محمد یاسر علی "

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.