کاش میں نہ ہوتا

کاش میری ماں کی بھی کوئی بیٹی ہوتی
جو گھر کے ہر کام میں
ماں کا ہاتھ بٹھایا کرتی
دن رات ماں کی خدمت کرتی
ماں جو کام سے تھک جایا کرتی
وہ ماں کے سر اور پاوں دبایا کرتی
بڑے پیار سے
ماں کے سر میں تیل کی مالش کرتی
الجھے بالوں کو سنوارا کرتی
ماں کی گود میں سر رکھ کے
ماں سے باتیں کیا کرتی
ماں اس کے ساتھ
اپنے دکھ سکھ بانٹا کرتی
یوں چپ چپ سی نہ رہا کرتی
ماں جو کبھی ذرا سا بھی بیمار ہوتی
وہ ماں کی دوا کا خیال رکھتی
اب کے جیسے بیماری میں
ماں کو کوئی کام نہ کرنے دیتی
کاش میں نہ ہوتا
میری جگہ
میری ماں کے ہاں کوئی بیٹی ہوتی
از " محمد یاسر علی "

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.