میں کیوں پریشان نہیں ہوں

بے حس انسان محمد یاسر علی
بے حس انسان
آپ یقین کریں کہ میں بلکل بھی پریشان نہیں ہوں حالانکہ پریشان ہونے کے لیے بہت کچھ ہے جیسے بے روزگاری ،اپنوں کی بے رخی ، کسی اپنے کی یادیں ،کچھ پرانے زخم اور نہیں تو ملک کے حالات، خبریں سنو تو دل خون کے آنسو روتا ہے مگر ان سب کے باوجود میں بلکل بھی پریشان نہیں ہوں کیونکہ میں بھی اب بہت بے حس ہو چکا ہوں آخر میں بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہوں جہاں سرفراز جیسے نہ جانے کتنے جوانوں کو مار دیا جاتا ہے اور خروٹ آباد میں کیا کچھ کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی ہمارے سر ندامت سے نہیں جھکتے کیونکہ یہ سب ہمارے ساتھ تو نہیں ہوا نا۔ کوئی دوسرا مرتا ہے تو مرے ہمیں اس سے کیا ہم تو محفوظ ہیں ۔بم دھماکوں میں کتنے گھرانے تباہ ہو جاتے ہیں مگر ہماری آنکھیں نم نہیں ہوتی کیونکہ اس سے ہماری ذات کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا نا ۔
ہم تو الیکشن میں یہ تک نہیں سوچتے کہ یہ وہی ہیں جنہوں نے ایمل کاسی ،عافیہ صدیقی اور نا جانے کتنی جوان بہنوں اور بھائیوں کو غیروں کے حوالے کیا ہے، ہمیں ڈرون حملے میں مرنے والا ایک آدھ دہشت گردتو نظر آجاتا ہے مگر ساتھ میں جو بے گنا ہ بچے، عورتیں اور افراد مارے جاتے ہیں وہ نظر نہیں آتے ۔ ہمیں تو شمائلہ کی آخری پکا ر بھی سنائی نہیں دیتی جو اپنی آخری سانسوں میں بھی حکمرانوں سے صرف انصاف مانگ رہی تھی اور اس کے ساتھ جو انصاف کیا گیا ہمیں تو وہ بھی نظر نہیں آتا ۔ ہمیں تو صرف اپنا مفاد نظر آتا ہے چاہے اس کے لیے ہم بیمار مریضوں کو چھوڑ کے ہڑتالیں ہی کرنی پڑہیں۔  ہمیں صرف اپنے حقوق نظر آتے ہیں ، اپنے فرائض یاد نہیں رہتے ،میرا مقصد کسی پہ تنقید کرنا نہیں ہے میں تو آپ کو صرف یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ  میں بے حس قوم کا بے حس فرد ہوں اور بے حس انسان ایک طرح زندہ لاش ہوتا ہے اور لاش کسی بھی صورت پریشان نہیں ہوتی ۔

تحریر ۔ محمد یاسر علی

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.