میرے دل اور دماغ کی آپس میں سرد جنگ

آج کل میں بہت ہی عجیب سی کیفیت سے گزر رہا ہوں، میرے دل و دماغ ہر وقت آپس میں الجھے رہتے ہیں، پتا نہیں دل اور دماغ کی اس سرد جنگ میں میرا کیا بنے گا.
دل کہتا ہے مجھے کسی سے بہت محبت ہے، دماغ کہتا ہے محبت کچھ بھی نہیں ہوتی.
دل کہتا ہے کہ اب میری زندگی صرف اس کے نام ہے ، دماغ کہتاہے پاگل نہ بنو  پتا نہیں تم نے اس کے بارے میں کیا کیا سوچا ہے پر کیا پتا وہ کیسی ہو.
دل کہتاہے وہ جیسی بھی ہو ، بہت اچھی ہے، سچی ہے، سادہ سی، معصوم سی.
دماغ کہتاہے وہ تم سے پیار نہیں کرتی، چھوڑ دو اس کا پیچھا، دل کہتاہے وہ کرے یا نہ کرے، میں تو کرتا ہوں.
دماغ کہتا ہے اگر وہ کسی اور کی ہوگئی تو کیسے جئیے گا،دل کہتا ہے میں اس کی خوشی میں خوش ہوں .
دماغ کہتا ہے اس کے بنا جی کے دیکھاو جیو گے بھی تو موت سے بدتر زندگی ، دل کہتا ہے جینے نہ ہوا تو موت کو گلے لگانا کون سا مشکل کام ہے.
دماغ کہتا ہے تو پاگل ہے، دل کہتاہے کہ ہاں میں پاگل ہوں اور جب یہاں آکے میرے دل و دماغ دونوں کسی ایک نقطہ پہ متفق ہوتے ہیں تو میں بھی کہتا ہوں چلو شکر کسی جگہ تو کسی بات پہ دل و دماغ میں اتفاق تو ہوا اب جب دونوں اس بات پہ متفق ہیں تو میں بھی مان لیتا ہوں میں پاگل ہوں۔
تحریر " محمدیاسرعلی"

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.