کاش میں

کاش میں آزاد فضاوں کا پنچھی ہوتا
جس دیس میں جی چاہتا
میں بسیرا کرتا
کاش میں آوارہ بادل ہوتا
جب بھی دل اداس ہوتا
میں کھل کے برس جاتا
کاش میں تازہ ہوا کا جھونکا ہوتا
اپنے یار کو ہر دم
تازگی کا احساس دلاتا
جب جی چاہتا
اس کے لب و رخسار کو چوم لیتا
کاش میں مکمل پاگل ہوتا
دل کے ساتھ ساتھ دماغ بھی
ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتا
جب جی چاہتا
یار کے در کا طواف کرتا
جب جی چاہتا
ان کے قدموں میں سجدہ کرتا
شرک کا مجھ پہ فتویٰ نہ لگتا
میرا سوہنا رب بھی
مجھ سے ناراض نہ ہوتا
کاش میں عشق میں مسلماں نہ ہوتا
بنا دیکھے
کسی ایک پہ ایماں نہ لایا ہوتا
میں بھی حسن کا پجاری ہوتا
جب کسی ایک کی پوجا سے
میرا دل اکتا جاتا
اپنے من کے مندر میں
کسی نئی دیوی کی مورت سجا لیتا
کاش میں اتنا بے بس نہ ہوتا
میرا دل میرے اختیار میں ہوتا
جب جی چاہتا
دنیا والوں کی طرح
میں یار بدل لیتا
از ”محمد یاسرعلی“
31 دسمبر 2012

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.