ایسا ہو سکتا نہیں

زندگی
مختلف رتوں کا میلہ ہے
اس میں سکھ کی بہاریں ہیں
تودکھوں کی خزائیں بھی ہیں
جذبوں کی گرمیاں ہیں
توبے اعتنابی کی سردیاں بھی ہیں
آنسووں کی برساتیں ہیں
تودلی مسکراہٹوں کی
قحط سالیاں بھی ہیں
زندگی چلتی رہتی ہے
رتیں بدلتی رہتی ہیں
کوئی رت کبھی مستقل ٹھہرتی نہیں
کوئی خزاں کبھی بھی
بہار کو آنے سے روک سکتی نہیں
پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے یاسر
آج تیری زندگی میں دکھ ہے
تو کل تیری زندگی میں
کوئی سکھ نہیں
از " محمد یاسرعلی"

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.