زندگی کے مشورے میرے نام

جب زہر پیالہ میں پینے لگا
تو زندگی نے آکے مجھ سے کہا
پہلے میری بات سن لو نا
پھر چاہے زہرپیالہ پی لینا
موت کو گلے لگا لینا
تجھے دنیا سےیہ گلہ ہے کہ
کسی نے تجھ کو اپنا سمجھا نہیں
دنیا سے گلہ بعد میں کرنا
تو تو خود بھی آج تک
اپنا بن سکا نہیں
ایک بار ذرا خود کو بدل کے دیکھ
کسی اور سے امید نہ رکھ
پہلے خود تو اپنا بن کے دیکھ
آخری بار تلخ یادوں کو بھلا کر
نئے سرے سے زندگی کا آغاز کر
اب تک انسانوں کو حال دل سنایا ہے
اک بار خدا سے بھی لو لگا کے دیکھ
آج تک سہارے تلاش کرتا رہا ہے
کسی اور کا سہارا بن کے دیکھ
اپنی خاطر مرنے سے پہلے
کسی اور کی خاطر جی کے دیکھ
پھر تجھے مجھ سے
پیار نہ ہوا تو کہنا
پھر جو مرضی کرنا نہیں روکوں گی
اپنی قید سے تجھے آزاد کر دوں گی
پھر چاہے زہر پیالہ پی لینا
موت کو گلے لگا لینا
===!===
شاعر " محمد یاسر علی "
===!===
ستمبر 28 , 2012 بروز جمعہ صبح 7 بجے
===!===

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا خواب، پیار، امن، مساوات اور انسانیت کا ترجمان نفرت، دہشتگردی، طبقاتی تفریق اور فرقہ پرستی سے پاک پاکستان " محمد یاسرعلی "

www.yasirnama.blogspot.com. Powered by Blogger.